اسلام آباد: عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی طویل مدتی کریڈٹ ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کردی ہے جبکہ مستحکم آؤٹ لک برقرار رکھا ہے۔
موڈیز کے مطابق پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری کی بنیادی وجوہات گورننس میں بہتری، معاشی استحکام کا تسلسل، زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ اور مقامی قرضوں کے اخراجات میں کمی ہیں۔
ریٹنگ ایجنسی نے بتایا کہ جولائی 2026 کے اختتام تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر تقریباً 17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، جو ایک سال قبل 14 ارب ڈالر سے زائد تھے۔ پالیسی ریٹ میں کمی کے باعث مقامی قرضوں کے اخراجات میں بھی کمی آئی ہے۔
موڈیز کے مطابق پاکستان نے اپریل میں 750 ملین ڈالر کا یورو بانڈ جاری کیا، جو عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی رسائی میں بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
ریٹنگ ایجنسی نے تاہم خبردار کیا کہ کمزور ریونیو بیس، کم براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور بیرونی مالیاتی خطرات بدستور پاکستان کی معیشت کے لیے چیلنجز ہیں۔
موڈیز کے مطابق مستحکم آؤٹ لک اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موجودہ معاشی استحکام اور بیرونی مالیاتی پوزیشن میں فوری طور پر نمایاں خرابی کا امکان محدود ہے۔




