خیرپور: شر خاندان کے چار افراد کی مختلف واقعات میں ہلاکتوں نے پولیس مقابلوں، مبینہ ماورائے عدالت قتل اور سیاسی اثر و رسوخ سے متعلق سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ خاندان کے مطابق پہلے مجتبیٰ شر عرف مجن، عاقب شر اور مولا بخش شر کو 3 فروری 2026 کو کوٹ لالو کے علاقے میں پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا، جبکہ پولیس نے اسے مقابلہ قرار دیا تھا۔

اہلخانہ نے پولیس کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تینوں افراد کو کہیں اور قتل کرکے بعد میں مقابلے کا رنگ دیا گیا۔ واقعے کے خلاف احتجاج بھی ہوا، جس کے بعد کوٹ لالو کے ایس ایچ او نورالدین کھوہارو کو معطل کرکے انکوائری کا حکم دیا گیا۔

اب خاندان کے چوتھے فرد رضوان شر کی ہلاکت نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اہلخانہ کے مطابق رضوان جسمانی معذوری کا شکار اور کینسر کے علاج کے لیے پنجاب گیا ہوا تھا، جہاں واپسی کے دوران اسے رحیم یار خان پولیس کے سب انسپکٹر آفتاب نے حراست میں لیا۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ بعد ازاں رضوان کی ہلاکت کو بھی پولیس مقابلہ قرار دیا گیا۔

مقامی افراد نے زمین کے تنازع اور سیاسی اثر و رسوخ کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، تاہم متعلقہ سیاسی رہنما ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں۔ ان حالات میں خاندان نے واقعات کی غیرجانبدار اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

چار افراد کی ہلاکتوں کے حوالے سے خاندان کا مؤقف ہے کہ مکمل تحقیقات کے ذریعے یہ واضح کیا جائے کہ ہلاکتیں حقیقی پولیس مقابلوں کا نتیجہ تھیں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کسی تنازع کے حل کے لیے استعمال کیا گیا۔

خاندان کے مطابق تحقیقات میں ایف آئی آرز، گرفتاریوں کے حالات، پولیس مقابلوں کی رپورٹس، پوسٹ مارٹم، بیلسٹک شواہد، طبی ریکارڈ اور رضوان شر کی گرفتاری سے متعلق ریلوے و پولیس ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔