اسلام آباد: روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے معروف صحافی و کالم نگار حامد میر کے کالم ’’مزید حماقتیں‘‘ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی، سابق وزیراعظم عمران خان کی اسپتال منتقلی اور سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کے معاملے پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔

حامد میر نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کی جانب سے عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفا اسپتال منتقل کرنے کے حکم کے بعد حکومت کے بعض وزراء نے فیصلے پر عملدرآمد کا اعلان کیا، تاہم بعد ازاں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے فیصلے کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کرنے کے اعلان نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کردیا۔

کالم کے مطابق نظرثانی درخواست تکنیکی وجوہات کی بنا پر واپس کیے جانے کے بعد حکومت پر عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کی ذمہ داری عائد ہوگئی، تاہم عمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کے بجائے پمز لے جایا گیا اور رات گئے طبی معائنے کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

حامد میر نے کالم میں حکومت کے اس مؤقف کا بھی ذکر کیا ہے کہ شفا اسپتال کے باہر ہجوم جمع ہونے کے باعث عمران خان کو پمز منتقل کیا گیا، جبکہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان شفا اسپتال میں موجود رہے۔

کالم میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے بعد تحریک انصاف نے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور بعض سرکاری افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کردی ہے۔

حامد میر کے مطابق تحریک انصاف نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو درخواست میں فریق نہیں بنایا، جسے وہ ریاستی اداروں سے براہ راست محاذ آرائی سے گریز کی پالیسی قرار دیتے ہیں۔ کالم نگار نے مسلم لیگ (ن) کو مشورہ دیا ہے کہ اپوزیشن کا مقابلہ سیاسی انداز میں کیا جائے اور ریاستی اداروں کو سیاسی تنازعات میں نہ گھسیٹا جائے۔

کالم کے اختتام پر حامد میر نے سیاسی جماعتوں کو ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے اور مزید محاذ آرائی سے گریز کا مشورہ دیتے ہوئے ’’مزید حماقتیں‘‘ نہ کرنے پر زور دیا ہے۔

اصل کالم: روزنامہ جنگ میں حامد میر کا کالم ’’مزید حماقتیں‘‘
https://jang.com.pk/news/1609972?fbclid