راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) نے بھارتی ’آپریشن سندور‘ سے متعلق حالیہ ڈاکیومنٹری پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے تاریخی حقائق کو مسخ کرنے اور جنگی ناکامی کو کامیابی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

17 اگست 2026 کو جاری بیان میں ISPR نے کہا کہ مارکۂ حق کے ایک سال سے زائد عرصے بعد بھی بھارت حقیقت کا سامنا کرنے کے بجائے اپنی پسند کے مطابق تاریخ کو رنگ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارتی مواد تخلیق کاروں کی جانب سے تیار کردہ ڈاکیومنٹری میں واقعات کو ڈرامائی انداز، جذباتی بیانیے اور بالی ووڈ طرز کی منظرکشی کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔

ISPR کے مطابق ڈاکیومنٹری میں منتخب انٹرویوز اور حقائق کے برعکس بیانیے کے ذریعے آپریشن سندور کے نتائج کو دوبارہ بیان کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم اس میں متعدد بنیادی تضادات موجود ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ بھارت نے آپریشن سندور کو پہلگام واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی قرار دیا، جبکہ بھارت کے اپنے دعوے کے مطابق پہلگام حملے کے تین مبینہ ملزمان کو 28 جولائی 2025 کو ہلاک کیا گیا، جو آپریشن سندور کے 82 روز بعد ہے۔ ISPR نے سوال اٹھایا کہ اگر مبینہ ملزمان 28 جولائی کو ہلاک ہوئے تو 7 مئی کو بھارت نے کس کے خلاف کارروائی کا دعویٰ کیا؟

ISPR نے بھارت کے ’100 فیصد مشن کامیابی‘ کے دعوے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مارکۂ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا اور 8 بھارتی فوجی طیارے مار گرائے۔

بیان کے مطابق پاکستان نے بعد ازاں آپریشن بنیان مرصوص کے دوران فتح پریسیژن گائیڈڈ راکٹس و میزائلز، پاک فضائیہ کے پریسیژن ہتھیاروں، لانگ رینج لوئٹرنگ میونیشنز اور پریسیژن آرٹلری کے ذریعے 26 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

ISPR نے مزید کہا کہ بھارتی فوجی قیادت خود پاکستانی میزائل، ڈرون اور فضائی سرگرمیوں، لائن آف کنٹرول پر مسلسل جھڑپوں اور بھارتی فضائی دفاعی نظام کے فعال ہونے کا اعتراف کر رہی ہے، جو بھارت کی جانب سے پاکستان کو فیصلہ کن شکست دینے کے دعوے سے مطابقت نہیں رکھتا۔

بیان میں جنگ بندی سے متعلق بھارتی بیانیے پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا کہ خود بھارتی ڈاکیومنٹری کے مطابق جنگ بندی دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان رابطے اور فوجی کارروائی روکنے پر اتفاق کے ذریعے ہوئی۔ ISPR کے مطابق امریکی معاونت سے ہونے والی جنگ بندی کو یکطرفہ بھارتی فتح قرار نہیں دیا جاسکتا۔

ISPR نے بھارتی ڈاکیومنٹری کو ایک ایسی کوشش قرار دیا جس کے ذریعے فوجی ناکامی کو ملکی سطح پر قابل قبول کامیابی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی سینمائی منظرکشی جنگی حقائق، طیاروں کے نقصانات، فوجی جانی نقصان اور حقیقی عسکری مقابلوں کو تبدیل نہیں کرسکتی۔

ISPR کے مطابق پاکستان کو مارکۂ حق کے بارے میں کسی مصنوعی بیانیے کی ضرورت نہیں، کیونکہ آپریشنل ریکارڈ، میدانِ جنگ کے شواہد، سفارتی رابطے اور بھارت کے بعد کے بیانات خود حقائق کی عکاسی کرتے ہیں۔

بیان کے اختتام پر ISPR نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے، تاہم پاک فوج ملک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور باصلاحیت ہے۔ مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب مؤثر اور فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔